صحیح ابن حبان
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
- باب الولي - ذكر نفي جواز عقد الولي نكاح البالغة عليها إلا باستئمارها باب: ولی کے بیان کا باب - اس بات کی نفی کہ ولی بالغہ عورت کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کر سکتا ہے
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا " أَرَادَ بِهِ : أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا بِأَنْ تَخْتَارَ مِنَ الأَزْوَاجِ مَنْ شَاءَتْ ، فَتَقُولُ : أَرْضَى فُلانًا ، وَلا أَرْضَى فُلانًا ، لا أَنَّ عَقْدَ النِّكَاحِ إِلَيْهِنَّ دُونَ الأَوْلِيَاءِ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بیوہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری لڑکی کی ذات کے بارے میں اس سے اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” بیوہ عورت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے “ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: وہ اپنے ولی کے مقابلے میں اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے وہ جس سے چاہے اس کے ساتھ شادی کر لے وہ یہ کہے گی: میں فلاں کے ساتھ شادی کرنے کیلئے راضی ہوں اور میں فلاں سے شادی کرنے کیلئے راضی نہیں ہوں اس سے یہ مراد نہیں ہے نکاح کا عقد منعقد کروانے کا معاملہ اس کے سپرد ہو گا اس کے اولیاء کے سپرد نہیں ہو گا۔