صحیح ابن حبان
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
- ذكر الزجر عن خطبة المرء على خطبة أخيه أو أن يستام على سومه باب: - ذکر اس ممانعت کا کہ کوئی شخص اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے یا اس کے سودے پر سودا نہ کرے
حدیث نمبر: 4046
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلا تَسْأَلُ الْمَرْأَةَ طَلاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا " ، قَالَ الشَّيْخُ ابْنُ زَيْدٍ : هَذَا مِنْ أَهْلِ الْمَزَارِ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” کوئی شخص اپنے بھائی کی بولی: پر بولی: نہ لگائے اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے، کوئی عورت اپنی بہن (یعنی سوکن) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے حصے میں آنے والی نعمتیں بھی خود حاصل کر لے۔ شیخ بیان کرتے ہیں: ابن زید نامی یہ راوی اہل مزار میں سے ہے یہ بصرہ کا رہنے والا ہے اور ثقہ ہے۔