صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب الإخلاص وأعمال السر - ذكر نفي وجود الثواب على الأعمال في العقبى لمن أشرك بالله في عمله باب: اخلاص اور پوشیدہ اعمال کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص اپنے عمل میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے، اسے آخرت میں اس عمل پر کوئی اجر نہیں ملے گا۔
حدیث نمبر: 404
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الأَنْصَارِيِّ وكان من الصحابة قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لِيَوْمٍ لا رَيْبَ فِيهِ ، نَادَى مُنَادٍ : مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ لِلَّهِ أَحَدًا ، فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ " .سیدنا ابوسعید بن فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ، جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جب قیامت کے دناللہ تعالیٰ پہلے والوں اور بعد والوں کو اکٹھا کرے گا یہ ایک ایسا دن ہو گا، جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک منادی یہ اعلان کرے گا، جو شخص اپنے عمل میں کسی کو اللہ کا شریک قرار دیتا تھا، تو وہ اپنا ثواب اسی سے حاصل کرے، کیونکہاللہ تعالیٰ شریک سے، سب سے زیادہ بے نیاز ہے ۔“