صحیح ابن حبان
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
- ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن قوله جل وعلا ذلك أدنى ألا تعولوا أراد به كثرة العيال باب: - ذکر اس خبر کا جو اس قول کو رد کرتی ہے کہ جس نے دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ کے قول "ذلك أدنى ألا تعولوا" سے مراد کثرت عیال ہے
حدیث نمبر: 4029
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ : ذَلِكَ أَدْنَى أَلا تَعُولُوا سورة النساء آية 3 ، قَالَ : " أَنْ لا تَجُورُوا " .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ” یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے، تم عول نہ کرو۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس سے مراد یہ ہے۔ تم ظلم نہ کرو۔