صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب الهدي - ذكر الزجر عن أكل سائر البدن إذا زحفت عليه منها إذا نحرها باب: ہدی (قربانی) کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ بدنہ کا سائس اسے کھائے اگر وہ اس پر زخمی ہو جائے جب اسے نحر کیا جائے
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَسْلَمِيَّ ، وَبَعَثَ مَعَهُ ثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ ؟ ، قَالَ : " انْحَرْهَا ، ثُمَّ اصْبِغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا ، وَلا تَأْكُلُ مِنْهَا أَنْتَ ، وَلا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسلمی رضی اللہ عنہ کو بھیجا آپ نے ان کے ہمراہ قربانی کے اٹھارہ اونٹ بھیجے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کا کیا خیال ہے، اگر ان میں سے کوئی جانور سفر کے قابل نہ رہے (تو میں کیا کروں؟) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے قربان کر دو پھر اس کے جوتے (یعنی وہ جوتے جو ہار کے طور پر اس کے گلے میں ڈالے گئے) اس کے خون میں رنگ کر اس کے ذریعے اس کے پہلو پر نشان لگا دو تم خود اس میں سے کچھ نہ کھانا اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی کوئی شخص اس کا گوشت نہ کھائے۔