صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب الحج والاعتمار عن الغير - ذكر تمثيل المصطفى صلى الله عليه وسلم الحج على من وجبت عليه بالدين إذا كان عليه باب: دوسروں کی طرف سے حج و عمرہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کو اس شخص کے لیے قرض کی طرح قرار دیا جس پر فریضہ واجب ہو
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنْ رَجُلا سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ أَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ عَنْ أُمِّهَا ، قَالَ سُلَيْمَانُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَنْ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي دَخَلٍ فِي الإِسْلامِ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ، فَإِنْ أَنَا شَدَدْتُهُ عَلَى رَاحِلَتِي خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهُ ، وَإِنْ لَمْ أَشُدَّهُ لَمْ يَثْبُتْ عَلَيْهَا ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاحْجُجْ عَنْ أَبِيكَ " .یحیی بن ابواسحاق بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سلیمان بن یسار سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا: جو اپنی والدہ کی طرف سے غلام آزاد کرنے کا ارادہ کرتی ہے، تو سلیمان نے جواب دیا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے والد نے جب اسلام قبول کیا اس وقت وہ بوڑھے عمر رسیدہ ہو چکے تھے اگر میں انہیں سواری پر باندھ دیتا ہوں، تو مجھے ڈر ہے وہ فوت ہو جائیں گے اور اگر انہیں باندھتا نہیں ہوں تو وہ اس پر بیٹھ نہیں سکیں گے کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارے والد کے ذمے قرض ہوتا اور تم ان کی طرف سے اس کو ادا کر دیتے، تو کیا وہ ادا ہو جاتا؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں قیاس کرنے کی اجازت ہونے کی دلیل ہے۔