صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب الكفارة - ذكر وصف القدر الذي يطعم لكل مسكين في الكفارة التي ذكرناها باب: کفارہ کا بیان - ہمارے بیان کردہ کفارہ میں ہر مسکین کو کھلانے کی مقدار کی صفت کا ذکر
حدیث نمبر: 3984
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : أَتَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمِنُ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَنَا كَثِيرُ الشَّعْرِ ، فَقَالَ : " كَأَنَّ هَوَامُّ رَأْسِكَ تُؤْذِيكَ ؟ " ، فَقُلْتُ : أَجَلْ ، قَالَ : " فَاحْلِقْهُ ، وَاذْبَحْ شَاةً نَسِيكَةً ، أَوْ صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلاثَةِ آصُعِ تَمْرٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ " .سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میرے بال بہت زیادہ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے منڈوا دو اور ایک بکری کی قربانی دیدو یا تین دن کے روزے رکھ لو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو صدقہ دیدو۔