صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب الكفارة - ذكر البيان بأن المرء مخير في الافتداء بما تيسر عليه من هذه الأشياء الثلاث باب: کفارہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کو اختیار ہے کہ وہ ان تین چیزوں میں سے جو اس کے لیے آسان ہو، اس سے فدیہ ادا کرے
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : أَتَى عَلِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ بُرْمَةٍ لِي ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي ، فَقَالَ : " أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاحْلِقْ ، وَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ، أَوِ انْسُكْ شَاةً " ، قَالَ أَيُّوبُ : فَلا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِكَ بَدَأَ .سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے یہ صلح حدیبیہ کے موقع کی بات ہے میں اس وقت اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور میری جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سر منڈوا دو اور تین دن روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو یا ایک بکری قربان کر دو۔ ایوب نامی راوی بیان کرتے ہیں: مجھے یہ معلوم نہیں ہے، ان میں سے کس کا ذکر پہلے ہوا تھا۔