صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب الكفارة - ذكر البيان بأن المرء مخير في الافتداء بما تيسر عليه من هذه الأشياء الثلاث باب: کفارہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کو اختیار ہے کہ وہ ان تین چیزوں میں سے جو اس کے لیے آسان ہو، اس سے فدیہ ادا کرے
حدیث نمبر: 3982
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا كَعْب بن عُجْرَةَ أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَمَرَنِي بِصِيَامٍ ، أَوْ صَدَقَةٍ ، أَوْ نُسُكٍ أَيُّمَا تَيَسَّرَ .سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے کعب بن عجرہ! کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روزہ رکھنے یا صدقہ کرنے یا قربانی کرنے کا حکم دیا کہ جو بھی ان میں سے آسانی سے ہو سکے (وہ فدیہ میں ادا کر دوں)۔