صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب ما يباح للمحرم وما لا يباح - ذكر العلة التي من أجلها رد صلى الله عليه وسلم لحم الصيد على الصعب بن جثامة باب: محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صعب بن جثامہ پر صید کا گوشت واپس کیا
حدیث نمبر: 3971
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " صَيْدُ الْبِرِّ حَلالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ ، أَوْ يُصَادْ لَكُمْ " .سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” خشکی کا شکار (احرام والے شخص کیلئے) حلال ہے پھر تم نے اسے شکار نہ کیا ہو یا اسے تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو۔ “