صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب ما يباح للمحرم وما لا يباح - ذكر إباحة أكل المحرم لحم صيد البر إذا تعرى عن معونته عليه باب: محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس بات کی اجازت کہ محرم جنگلی جانور کا گوشت کھائے اگر اس نے اس کے شکار میں مدد نہ کی ہو
حدیث نمبر: 3967
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ ، قَالَ : فَرَدَّهُ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيَّ ، فَلَمَّا عَرَفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِي ، قَالَ : " لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” ابواء “ یا شاید ” ودان “ کے مقام پر حمار وحشی (یعنی زیبرے) کا گوشت پیش کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں کیا میرے لیے یہ بات پریشانی کا باعث بنی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر (پریشانی) کے آثار دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم یہ تمہیں واپس نہ کرتے، لیکن ہم احرام کی حالت میں ہیں۔