صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب ما جاء في حج النبي صلى الله عليه وسلم واعتماره - ذكر وصف الاستمتاع الذي ذكره خالد بن دريك في هذا الخبر باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج و عمرہ کا بیان - اس استمتاع کی صفت کا ذکر جو خالد بن دریک نے اس خبر میں بیان کیا
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : أَلا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ ، وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ ، وَلَمْ يُحَرِّمْهُ ، وَكَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ ، فَلَمَّا اكْتَوَيْتُ ذَهَبَ ، أَوْ رُفِعَ عَنِّي ، فَلَمَّا تَرَكْتُهُ رَجَعَ إِلَيَّ " .مطرف بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تمہیں فائدہ دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو ایک ساتھ ادا کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا تھا اور اس بارے میں آپ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی آپ نے اسے حرام قرار دیا۔ (مطرف بیان کرتے ہیں:) وہ (یعنی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ) مجھے سلام کیا کرتے تھے جب میں نے داغ لگوائے، تو آپ تشریف لے گئے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) میرے پاس سے اٹھ گئے جب میں نے داغ لگوانے ترک کر دیئے، تو وہ میرے پاس پھر آنا جانا شروع ہو گئے۔