حدیث نمبر: 3900
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَى صَفِيَّةَ إِلا حَابِسَتَنَا ، قَالَ : " مَا شَأْنُهَا ؟ " ، قُلْتُ : حَاضَتْ ، قَالَ : " أَمَا كَانَتْ طَافَتْ قَبْلَ ذَلِكَ ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى ، وَلَكِنَّهَا حَاضَتْ ، قَالَ : " فَلا حَبْسَ عَلَيْهَا فَلْتَنْفِرْ " .

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرا خیال ہے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اسے کیا ہوا ہے؟ ہم نے عرض کی: انہیں حیض آ گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ پہلے طواف نہیں کر چکی ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں، لیکن انہیں حیض آ گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس کا رکنا ضروری نہیں ہے وہ روانہ ہو سکتی ہے۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3900
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1748): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3889»