صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب رمي الجمار أيام التشريق - ذكر الإخبار عن وصف أيام منى وإسقاط الحرج عمن تعجل في يومين منها باب: ایامِ تشریق میں جمار کو کنکریاں مارنے کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ منیٰ کے ایام کی صفت اور دو دنوں میں تعجیل کرنے والے سے حرج اٹھانے کا ذکر
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْحَجُّ عَرَفَاتٌ ، فَمَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ ، فَقَدْ أَدْرَكَ أَيَّامُ مِنًى ثَلاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ " ، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ : لَيْسَ عِنْدَكُمْ بِالْكُوفَةِ حَدِيثٌ أَشْرَفُ وَلا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا .سیدنا عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: حج عرفات (میں وقوف کا نام) ہے، جو شخص مزدلفہ کی رات صبح صادق ہونے سے پہلے عرفہ پہنچ جاتا ہے وہ منی کے ایام جو تین دن ہیں۔ انہیں پا لیتا ہے، جو شخص دو دنوں کے بعد پہلے چلا جائے، تو اسے بھی کوئی گناہ نہیں ہے اور جو ٹھہرا رہے اور تین دن کے بعد جائے اسے بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ ابن عیینہ کہتے ہیں: میں نے سفیان ثوری سے کہا: آپ لوگوں کے پاس کوفہ میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہو گی جو اس حدیث سے زیادہ معزز اور عمدہ ہو۔