صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب رمي الجمار أيام التشريق - ذكر خبر ثان يصرح بإباحة ما تقدم ذكرنا لها باب: ایامِ تشریق میں جمار کو کنکریاں مارنے کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے پہلے بیان کردہ کی اجازت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 3891
أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ السَّكْسَكِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالٍ مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ ، فَأَذِنَ لَهُ مِنْ أَجْلِ السِّقَايَةِ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ منی کی راتیں مکہ میں بسر کرے، کیونکہ انہوں نے (حاجیوں کو آب زمزم) پلانا ہوتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پلانے کی خدمت کی وجہ سے انہیں اس بات کی اجازت دے دی۔