صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب رمي الجمار أيام التشريق - ذكر البيان بأن هذا الأمر للعباس إنما هو أمر رخصة وندب دون أن يكون حتما وإيجابا باب: ایامِ تشریق میں جمار کو کنکریاں مارنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ عباس کے لیے یہ حکم رخصت اور استحباب کا ہے، نہ کہ وجوب کا
حدیث نمبر: 3890
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْعَبَّاسِ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ أَيَّامَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ وہ منی کے دنوں کی راتیں مکہ میں بسر کرے، کیونکہ انہوں نے حاجیوں کو (آب زمزم) پلانا ہوتا ہے۔