صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب الإخلاص وأعمال السر باب: اخلاص اور پوشیدہ اعمال کا بیان -
حدیث نمبر: 389
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا ، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اعمال (کی جزاء) کا مدار نیت پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا، جو اس نے نیت کی ہے، جس شخص کی ہجرتاللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہو گئی، تو اس کی ہجرتاللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف شمار ہو گی اور جس شخص کی ہجرت دنیاوی فائدے کے حصول کے لئے یا کسی عورت کے ساتھ شادی کرنے کے لئے ہو گی، تو اس کی ہجرت اسی طرف شمار ہو گی جس طرف (نیت کر کے) اس نے ہجرت کی ہے ۔“