صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب الوقوف بعرفة والمزدلفة والدفع منهما - ذكر خبر ثان يصرح بإباحة ما ذكرنا باب: عرفات اور مزدلفہ میں وقوف اور وہاں سے روانگی کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی اجازت کو واضح کرتی ہے
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ زِيَادٍ السُّوسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ ، فَأُصَلِّيَ الصُّبْحَ بِمِنًى ، وَأَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ : وَكَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ ؟ ، قَالَتْ : " نَعَمْ إِنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً ، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میری یہ خواہش ہے کہ میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح اجازت لے لی ہوتی، جس طرح سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے لی تھی اور میں صبح کی نماز منی میں ادا کرتی جمرہ کو کنکریاں لوگوں کے آنے سے پہلے مار لیتی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں وہ ایک بھاری بھرکم خاتون تھیں، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔