صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب الوقوف بعرفة والمزدلفة والدفع منهما - ذكر البيان بأن الجمع بين الصلاتين للحاج إذا كانوا غير أهل الحرم يجب أن يصلوا صلاة المسافر لا صلاة المقيم باب: عرفات اور مزدلفہ میں وقوف اور وہاں سے روانگی کا بیان - اس بات کا بیان کہ حاجیوں کے لیے، جو حرم کے رہنے والے نہیں، مغرب اور عشاء کا جمع کرنا مسافر کی نماز کے طور پر واجب ہے، نہ کہ مقیم کی
حدیث نمبر: 3859
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا ابْنُ عُمَرَ بِجَمْعِ الْمَغْرِبِ ثَلاثًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ، وَحَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مِثْلَ ذَلِكَ " .سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ہمیں مزدلفہ میں مغرب کی نماز میں تین رکعات پڑھائیں جب انہوں نے سلام پھیرا، تو وہ پھر کھڑے ہوئے اور انہوں نے عشاء کی دو رکعات پڑھائیں۔ انہوں نے یہ بات بیان کی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پر ان لوگوں کو اسی طرح نماز پڑھائی تھی۔