صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب الوقوف بعرفة والمزدلفة والدفع منهما - ذكر وقوف المرء بعرفات ودفعه عنها إلى المزدلفة إذا كان حاجا باب: عرفات اور مزدلفہ میں وقوف اور وہاں سے روانگی کا بیان - حاجی کے عرفات میں وقوف اور وہاں سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا ذکر
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ ، يَقُولُ : " دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ ، نَزَلَ فَبَالَ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ، وَلَمْ يُسْبِغِ الْوضُوءَ ، فَقُلْتُ لَهُ : الصَّلاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الصَّلاةُ أَمَامَكَ ، فَرَكِبَ ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ ، نَزَلَ فَتَوَضَّأَ ، فَأَسْبَغَ الْوضُوءَ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ ، فَصَلاهُمَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا " .سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب آپ گھاٹی میں پہنچے، تو آپ سواری سے نیچے اترے۔ آپ نے پیشاب کیا پھر آپ نے وضو کیا آپ نے مبالغے کے ساتھ وضو نہیں کیا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نماز ادا کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے جا کے ہو گی پھر آپ سوار ہوئے، یہاں تک کہ آپ مزدلفہ تشریف لے آئے۔ پھر آپ سواری سے اترے آپ نے وضو کرتے ہوئے مبالغے کے ساتھ وضو کیا پھر نماز کھڑی ہوئی آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر آپ ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنی رہائشی جگہ پر بٹھا لیا پھر عشاء کی نماز کے لیے اقامت کہی گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں نمازیں ادا کیں آپ نے ان کے درمیان (کوئی اور نفل نماز) ادا نہیں کی۔