صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب الوقوف بعرفة والمزدلفة والدفع منهما - ذكر الإخبار عن تمام حج الواقف بعرفة من حين يصلي الأولى والعصر بعرفات إلى طلوع الفجر من ليلته قل وقوفه بها أم كثر باب: عرفات اور مزدلفہ میں وقوف اور وہاں سے روانگی کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ عرفات میں وقوف کرنے والے کا حج اس وقت مکمل ہوتا ہے جب وہ ظہر اور عصر عرفات میں پڑھے، چاہے اس کا وقوف کم ہو یا زیادہ، فجر طلوع ہونے تک
حدیث نمبر: 3850
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لامٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ بِجَمْعٍ ، فَقُلْتُ : هَلْ عَلَيَّ مِنْ حَجٍّ ؟ ، قَالَ : " مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذَا الْمَوْقِفَ حَتَّى يُفِيضَ ، وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلا ، أَوْ نَهَارًا ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ ، وَقَضَى تَفَثَهُ " .سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت مزدلفہ میں موجود تھے میں نے عرض کی: کیا مجھ پر حج کرنا لازم ہے (یعنی میرا حج ہو گیا ہے یا میں دوبارہ کروں؟) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہمارے ساتھ روانہ ہونے تک اس جگہ پر وقوف کیے رہا اور وہ اس سے پہلے عرفات سے رات کے وقت یا دن کے وقت روانہ ہو چکا ہو، تو اس نے اپنے حج کو پورا کر لیا اور اپنی نذر کو مکمل کر لیا۔