صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب دخول مكة - ذكر الأمر للمرأة إذا حاضت أن تعمل عمل الحج خلا الطواف بالبيت باب: مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ اگر عورت حیض سے ہو تو وہ بیت اللہ کے طواف کے علاوہ حج کے دیگر اعمال کرے
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا نَنْوِي إِلا الْحَجَّ ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا لَكِ ، أَنَفِسْتِ ؟ " ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " هَذَا أَمَرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ " ، وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ہماری نیت صرف حج کرنے کی تھی، جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے، تو مجھے حیض آ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ تم وہ تمام چیزیں ادا کرو جو حاجی کرتے ہیں، البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ سیده عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے ایک گائے قربان کی تھی۔