صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب دخول مكة - ذكر العلة التي من أجلها اقتصر القوم في بناء الكعبة على قواعد إبراهيم باب: مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر لوگوں نے کعبہ کی تعمیر کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں تک محدود رکھا
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ سَأَلَ الأَسْوَدَ ، وَكَانَ يَأْتِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، وَكَانَتْ تُفْضِي إِلَيْهِ ، قَالَ الأَسْوَدُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةِ ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ " ، فَهَدَمَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، وَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ .اسود بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسود سے سوال کیا وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا جایا کرتے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان پر خصوصی شفقت کرتی تھیں۔ اسود نے بتایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی، تو میں خانہ کعبہ کو منہدم کروا دیتا اور اس کے دو دروازے بنواتا ۔“ راوی کہتے ہیں: اس لیے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے منہدم کروا کے اس کے دو دروازے بنوائے تھے۔