صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب دخول مكة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر ابن عباس الذي ذكرناه باب: مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ابن عباس کی ہمارے بیان کردہ خبر کے مخالف ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ حِينَ أَرَادُوا دُخُولَ مَكَّةَ فِي عُمْرَتِهِ بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ : " إِنَّ قَوْمَكُمْ غَدًا سَيَرَوْنَكُمْ ، فَلَيَرَوْنَكُمْ جُلَدَاءَ " ، فَلَمَّا دَخَلُوا الْمَسْجِدَ اسْتَلَمُوا الرُّكْنَ ، ثُمَّ رَمَلُوا ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ ، حَتَّى إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ مَشَوْا إِلَى الرُّكْنِ الأَسْوَدِ ، ثُمَّ رَمَلُوا حَتَّى بَلَغُوا الرُّكْنَ ، فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَشَى الأَرْبَعَ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: حدیبیہ کے بعد عمرہ کے موقع پر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب مکہ میں داخل ہونے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: لوگ کل تمہیں دیکھیں، تو تمہیں مضبوط دیکھیں جب یہ لوگ مسجد میں داخل ہوئے، تو انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا پھر انہوں نے رمل کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ یہ لوگ رکن یمانی تک پہنچے، تو عام رفتار سے چلتے ہوئے حجر اسود تک آئے پھر بھاگنے لگے جب رکن یمانی تک پہنچے (تو پھر عام رفتار سے چلنے لگے) ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا (جبکہ باقی کے) چار طوافوں میں عام رفتار سے چلتے رہے۔