صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب دخول مكة - ذكر العلة التي من أجلها رمل صلى الله عليه وسلم فيما وصفنا باب: مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ طواف میں رمل کیا
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ ، وَأَنَّهُ سَنَةٌ ، فَقَالَ : صَدَقُوا وَكَذَبُوا ، قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ ، ثُمَّ قَالَ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى قُعَيْقِعَانَ ، وَقَدْ تَحَدَّثُوا : أَنَّ بِصَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُزَالا وَجَهْدًا ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا لِيُرِيَهُمْ أَنَّ بِهِمْ قُوَّةً " .ابوطفیل بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: اے ابن عباس آپ کی قوم کے افراد یہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا تھا اور یہ سنت ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہوں نے کچھ بات ٹھیک بیان کی ہے کچھ غلط بیان کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا تھا، لیکن یہ سنت نہیں ہے پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ مکرمہ) تشریف لائے، تو مشرکین قعیقان (کے مقام پر) بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے بارے میں فراق اڑانے کے طور پر بات چیت کر رہے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو یہ حکم دیا کہ وہ رمل کریں، تاکہ ان لوگوں کو اپنی قوت دکھا دیں۔