صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب الإحرام - ذكر الإخبار عما أبيح للمحرم من لبس الخفين والسراويل عند عدمه الإزار والنعلين باب: احرام کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ محرم کے لیے جوتوں اور پاجامے کا پہننا جائز ہے جب ایزار اور نعلین نہ ہوں
وَحَدَّثَنَا وَحَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ " . قَالَ : فَقَالَ بِيَدِهِ ، وَأَشَارَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، كَأَنَّهُ لَمْ يَعْبَأْ بِالْحَدِيثِ ، فَقُمْتُ مِنْ عِنْدَهُ ، فَتَلَقَّانِي قَالَ : فَقَالَ بِيَدِهِ ، وَأَشَارَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، كَأَنَّهُ لَمْ يَعْبَأْ بِالْحَدِيثِ ، فَقُمْتُ مِنْ عِنْدَهُ ، فَتَلَقَّانِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ دَاخِلَ الْمَسْجِدِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا أَرْطَاةَ ، مَا تَقُولُ فِي مُحْرِمٍ لَبَسَ السَّرَاوِيلَ ، أَوْ لَبَسَ الْخُفَّيْنِ ؟ ، فَقَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ " .ایوب نے نافع کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کیا ہے۔ ” شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے تہبند میسر نہ ہو اور موزے وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے جوتے میسر نہ ہوں ۔“ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا، ابراہیم بن حجاج نے اشارہ کر کے بتایا کہ گویا انہوں نے حدیث کی کوئی پرواہ نہیں کی، تو میں ان کے پاس سے اٹھ گیا پھر حجاج بن ارطاۃ کی مجھ سے ملاقات مسجد کے اندر ہوئی، تو میں نے کہا: اے ارطاۃ ایسے محرم کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں: جو شلوار پہن لیتا ہے یا موزے پہن لیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا: عمرو بن دینار نے جابر بن زید کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے۔ ” شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے تہبند دستیاب نہ ہو اور موزے وہ شخص پہن سکتا ہے جسے جوتے دستیاب نہ ہوں ۔“