صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب الإحرام - ذكر الإخبار عما أبيح للمحرم من لبس الخفين والسراويل عند عدمه الإزار والنعلين باب: احرام کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ محرم کے لیے جوتوں اور پاجامے کا پہننا جائز ہے جب ایزار اور نعلین نہ ہوں
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى أَبِي حَنِيفَةَ بِمَكَّةَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنِّي لَبِسْتُ خُفَّيْنِ وَأَنَا مُحْرِمٌ ، أَوْ قَالَ : لَبِسْتُ سَرَاوِيلَ وَأَنَا مُحْرِمٌ ، شَكَّ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو حَنِيفَةَ : عَلَيْكَ دَمٌ قَالَ : فَقُلْتُ لِلرَّجُلِ وَجَدْتُ نَعْلَيْنِ ، أَوْ وَجَدْتُ إِزَارًا ؟ ، فَقَالَ لا ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَنِيفَةَ إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ ، فَقَالَ : " سَوَاءٌ وَجَدَ ، أَوْ لَمْ يَجِدْ " .حماد بن زید بیان کرتے ہیں: میں مکہ میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: میں نے احرام کے دوران موزے پہن لیے ہیں (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) میں نے شلوار پہن لی جبکہ میں نے احرام باندھا ہوا تھا۔ یہ شک ابراہیم نامی راوی کو ہے، تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اس کو فرمایا: تم پر دم دینا لازم ہو گا حماد بن زید کہتے ہیں: میں نے اس شخص سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس جوتے ہیں۔ کیا تمہارے پاس تہبند ہے؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں میں نے کہا: اے ابوحنیفہ! یہ شخص، تو یہ کہتا ہے کہ اس کے پاس، تو وہ ہے ہی نہیں، تو امام ابوحنیفہ نے فرمایا: یہ حکم برابر ہے خواہ وہ اس کے پاس ہو یا اس کے پاس نہ ہو۔