صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب فضل المدينة - ذكر الزجر عن الاصطياد بين لابتي المدينة إذ الله جل وعلا حرمها على لسان رسوله صلى الله عليه وسلم باب: مدینہ کے فضائل کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ مدینہ کی دو چٹانوں کے درمیان شکار کیا جائے کیونکہ اللہ جل وعلا نے اسے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر حرام کیا
حدیث نمبر: 3751
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ ، يَقُولُ : ثُمَّ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةَ مَا ذَعَرْتُهَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا حَرَامٌ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میں مدینہ منورہ میں کسی ہرن کو چرتا ہوا دیکھوں، تو اسے پکڑنے کی کوشش نہیں کروں گا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” یہ دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ حرم ہے ۔“