صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب فضل المدينة - ذكر تشفيع المدينة في القيامة لمن مات بها من أمة المصطفى صلى الله عليه وسلم باب: مدینہ کے فضائل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ قیامت میں مدینہ اس شخص کے لیے شفاعت کرے گی جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے اس میں مرے
حدیث نمبر: 3742
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ الصُّمَيْتَةَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي لَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهَا ، تُحَدِّثُ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا ، سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لا يَمُوتَ إِلا بِالْمَدِينَةِ ، فَلْيَمُتْ بِهَا ، فَإِنَّهُ مَنْ يَمُتْ بِهَا ، تَشْفَعْ لَهُ ، وَتَشْهَدُ لَهُ " .سیدہ صفیہ بنت عبید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” تم میں سے جس شخص کے لیے یہ ممکن ہو کہ وہ مدینہ منورہ میں انتقال کرے اسے یہاں انتقال کرنا چاہیئے، کیونکہ جو شخص یہاں فوت ہو گا یہ اس کی شفاعت کرے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ” یہ اس کے حق میں گواہی دے گا ۔“