صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب فضل مكة - ذكر خبر قد يوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه مضاد لخبر أنس بن مالك الذي ذكرناه باب: مکہ کے فضائل کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ انس بن مالک کی ہمارے بیان کردہ خبر کے مخالف ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فِي خَبَرِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ " ، وَفِي خَبَرِ جَابِرٍ : " أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ، وَلَمْ يَدْخُلْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ إِلا مَرَّةً وَاحِدَةً ، وَهُوَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ كَانَ عَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ ، وَقَدْ تَعَمَّمَ بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءِ فَوْقَهُ ، فَإِذًا جَابِرٌ ذَكَرَ الْعِمَامَةَ الَّتِي عَايَنَهَا ، وَإِذَا أَنَسٌ ذَكَرَ الْمِغْفَرَ الَّذِي رَآهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ أَوْ تَهَاتُرٌ " .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ میں) داخل ہوئے، تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تھے تو آپ کے سر مبارک پر خود تھا جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تھے تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احرام کے بغیر مکہ میں صرف ایک مرتبہ داخل ہوئے تھے یہ فتح مکہ کا دن تھا تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ اس دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر خود بھی رکھا ہو اور اس پر سیاہ امامہ بھی باندھا ہو تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے عمامے کا ذکر کیا جسے انہوں نے دیکھا تھا اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے خود کا ذکر کیا جو انہوں نے دیکھا تھا تو اس طرح ان دونوں روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہو گا۔