صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب فضل مكة - ذكر البيان بأن مكة إنما أحلت للمصطفى صلى الله عليه وسلم ساعة واحدة فقط ثم حرمت حرام الأبد باب: مکہ کے فضائل کا بیان - اس بات کا بیان کہ مکہ صرف مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا، پھر وہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو گیا
أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهِلٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ ، حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ ، وَلا يُعْضَدُ شَوْكَةُ ، وَلا تُلْتَقَطُ لُقَطَتَهُ إِلا مَنْ عَرَّفَهَا ، وَلا يُخْتَلَى خَلاؤُهُ " ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : إِلا الإِذْخِرَ ، فَإِنَّهُ لِبُيُوتِهِمْ ، فَقَالَ : " إِلا الإِذْخِرَ ، وَلا هِجْرَةَ ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ شہر قابل احترام ہے اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے قابل احترام قرار دیا ہے یہاں کہ شکار کو بھگایا نہیں جائے گا یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جائے گا اور یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے اور یہاں کے پودوں کو اکھیڑا نہیں جائے گا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اذخر کی اجازت دے دیں وہ گھروں میں استعمال ہوتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اذخر کی اجازت ہے اب ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تم سے (جہاد کے لیے) نکلنے کے لیے کہا: جائے، تو تم نکل کھڑے ہو۔