صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الخصال التي إذا استعملها المرء كان ضامنا بها على الله جل وعلا باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - ان اوصاف کا ذکر جن پر عمل کرنے والا اللہ جل وعلا کے ذمہ پر ہو جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ رَافِعٍ الْقَيْسِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ عَادَ مَرِيضًا ، كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ غَدَا إِلَى مَسْجِدٍ أَوْ رَاحَ ، كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُعَزِّزُهُ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ ، وَمَنْ جَلَسَ فِي بَيْتِهِ لَمْ يَغْتَبْ إِنْسَانًا ، كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ " .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے، تو وہ اللہ کے ذمے ہوتا ہے اور جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے، تو وہ بھی اللہ کے ذمے ہوتا ہے اور جو شخص صبح یا شام کے وقت مسجد کی طرف جاتا ہے وہاللہ تعالیٰ کے ذمے ہوتا ہے اور جو شخص حاکم وقت کے پاس جاتا ہے، تاکہ اس کی مدد کرے وہ بھی اللہ کے ذمے ہوتا ہے اور جو شخص اپنے گھر میں بیٹھا رہتا ہے اور کسی انسان کی غیبت نہیں کرتا وہ بھیاللہ تعالیٰ کے ذمے ہوتا ہے۔ (یعنی اس کی امان میں ہوتا ہے) ۔“