صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب فضل مكة - ذكر البيان بأن قول علي بن أبي طالب رضي الله عنه ما عندنا كتاب نقرؤه إلا كتاب الله وصحيفة في قراب سيفي أراد به مما كتبناه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم باب: مکہ کے فضائل کا بیان - اس بات کا بیان کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے قول "ہمارے پاس کوئی کتاب نہیں جسے ہم پڑھیں سوائے اللہ کی کتاب اور تلوار کے نیام میں موجود صحیفہ کے" سے مراد وہ ہے جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکھا
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، ثُمّ قَالَ : مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا الْقُرْآنَ ، وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عِيرٍ إِلَى ثَوْرٍ ، فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فِيهَا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ ، ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ ، وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذَنِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف قرآن کو نوٹ کیا گیا تھا یا وہ احکام ہیں جو صحیفے میں ہیں۔ انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” مدینہ عیر سے ثور تک حرم ہے جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا بدعتی کو پناہ دے، تو اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ایسے شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی۔ مسلمانوں کی دی ہوئی پناہ یکساں حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا عام فرد بھی اسے پوری کرنے کی کوشش کرے گا جو شخص کسی مسلمان کو رسوا کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی ایسے شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی اور جو شخص اپنے آقا کی بجائے خود کو کسی اور کی طرف منسوب کرے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی ۔“