صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب فضل مكة - ذكر الوقت الذي أخرج الله زمزم وأظهرها باب: مکہ کے فضائل کا بیان - اس وقت کا ذکر جب اللہ نے زمزم کو نکالا اور اسے ظاہر کیا
حدیث نمبر: 3713
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ حِينَ رَكَضَ زَمْزَمَ بِعَقِبِهِ جَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تَجْمَعُ الْبَطْحَاءَ " ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ هَاجَرَ ، لَوْ تَرَكَتْهَا كَانَتْ عَيْنًا مَعِينًا " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب جبرائیل نے زمزم کے مقام پر اپنی ایڑی ماری، تو سیدنا اسمعیل علیہ السلام کی والدہ نے مٹی کو اکٹھا کرنا شروع کیا (تاکہ پانی کے گرد آڑ بنا لیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ہاجرہ پر رحم کرے، اگر وہ اسے ایسے ہی رہنے دیتی، تو یہ ایک بہتا ہوا بڑا چشمہ ہوتا ہے ۔“