صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب فرض الحج - ذكر البيان بأن فرض الله جل وعلا الحج على من وجد إليه سبيلا في عمره مرة واحدة لا في كل عام باب: حج کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا نے اس شخص پر حج ایک بار زندگی میں فرض کیا جو اس تک راستہ رکھتا ہو، نہ کہ ہر سال
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَجَّ بِنِسَائِهِ ، قَالَ : " إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ الْحِجَّةُ ، ثُمَّ عَلَيْكُمْ بِظُهُورِ الْحُصُرِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : خِطَابُ هَذَا الْخَبَرِ وَقَعَ عَلَى بَعْضِ النِّسَاءِ ، أَرَادَ بِهِ نِسَاءَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْقَصْدُ فِيهِ بَعْضُ الأَحْوَالِ ، وَهُوَ الْحَالُ الَّذِي لا يَكُونُ عَلَيْهِنَّ إِقَامَةُ الْفَرَائِضِ فِيهِ كَالصَّلاةِ ، وَالْحَجِّ ، وَمَا أَشْبَهَهُمَا .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کے ہمراہ حج کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک یہ حج ہے اور پھر تم پر گھر میں رہنا لازم ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس روایت کے الفاظ بعض خواتین کے لیے استعمال ہوئے ہیں اور اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ہیں اور اس میں قصد بعض حالتوں کا کیا گیا ہے۔ اور یہ وہ حالت ہے کہ جب ان خواتین پر اس حالت کے دوران فرائض کو قائم کرنا لازم نہیں تھا جیسے نماز ادا کرنا اور اس جیسے دیگر امور۔