حدیث نمبر: 3705
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ، فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ " ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَوَفِي كُلِّ عَامٍ ؟ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ يَعْرِضُ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ ، لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمَا قُمْتُمْ بِهِ " ، ثُمَّ قَالَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ ، وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ شَيْءٍ ، فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ " .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض قرار دیا ہے۔ ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: کیا ہر سال میں، یہاں تک کہ انہوں نے تین مرتبہ یہ سوال کیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض کیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا اور اگر یہ لازم ہو جاتا، تو تم اسے ادا نہیں کر پاتے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جن معاملات میں، میں تمہیں ترک کر دیتا ہوں تم ان میں مجھے رہنے دو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے میں تمہیں، جس چیز کے بارے میں حکم دوں جہاں تک تم سے ہو سکے اسے بجا لاؤ جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں، تو تم اس سے اجتناب کرو۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3705
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3697»