صحیح ابن حبان
كتاب الحج— کتاب: حج کے احکام و مسائل
باب فرض الحج - ذكر البيان بأن فرض الله جل وعلا الحج على من وجد إليه سبيلا في عمره مرة واحدة لا في كل عام باب: حج کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا نے اس شخص پر حج ایک بار زندگی میں فرض کیا جو اس تک راستہ رکھتا ہو، نہ کہ ہر سال
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ، فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ " ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَوَفِي كُلِّ عَامٍ ؟ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ يَعْرِضُ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ ، لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمَا قُمْتُمْ بِهِ " ، ثُمَّ قَالَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ ، وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ شَيْءٍ ، فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض قرار دیا ہے۔ ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: کیا ہر سال میں، یہاں تک کہ انہوں نے تین مرتبہ یہ سوال کیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض کیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا اور اگر یہ لازم ہو جاتا، تو تم اسے ادا نہیں کر پاتے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جن معاملات میں، میں تمہیں ترک کر دیتا ہوں تم ان میں مجھے رہنے دو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے میں تمہیں، جس چیز کے بارے میں حکم دوں جہاں تک تم سے ہو سکے اسے بجا لاؤ جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں، تو تم اس سے اجتناب کرو۔