صحیح ابن حبان
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے احکام و مسائل
باب الاعتكاف وليلة القدر - ذكر مغفرة الله جل وعلا السالف من ذنوب العبد بقيامه ليلة القدر إيمانا واحتسابا فيه باب: اعتکاف اور لیلۃ القدر کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا لیلة القدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کرنے والے کے گزشتہ گناہ معاف کرتا ہے
حدیث نمبر: 3682
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ وَصَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے رمضان میں نوافل ادا کرتا ہے اور روزے رکھتا ہے اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے، جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے شب قدر میں نوافل ادا کرتا ہے اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔“