صحیح ابن حبان
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے احکام و مسائل
باب الاعتكاف وليلة القدر - ذكر جواز زيارة المرأة زوجها المعتكف بالليل إلى الموضع الذي اعتكف فيه باب: اعتکاف اور لیلۃ القدر کا بیان - اس بات کی اجازت کہ عورت رات کو اپنے معتکف شوہر سے اس جگہ ملنے جائے جہاں وہ اعتکاف کر رہا ہو
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا ، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلا ، فَحَدَّثْتُهُ ، ثُمَّ جِئْتُ لأَنْقَلِبَ ، فَقَامَ مَعِي يَقْلِبُنِي ، وَكَانَ مَنْزِلُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَرَأَنَا رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَّعَا رُءُوسَهُمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى رِسْلِكُمَا ، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ " ، فَقَالا : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ ، وَإِنِّي خِفْتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبُكُمَا شَيْئًا " ، أَوْ قَالَ : " شَرًّا " .امام زین العابدین رحمہ اللہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا ہوا تھا میں آپ کی زیارت کے لیے رات کے وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں آپ کے ساتھ بات چیت کرتی رہی پھر جب میں واپس آنے کے لیے اٹھی، تو آپ میرے ساتھ کھڑے ہوئے، تاکہ مجھے رخصت کریں۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا گھر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر کے پاس تھا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں نے ہمیں دیکھا جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، تو انہوں نے اپنے سر جھکا لیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو! یہ صفیہ بنت حیی ہے (جو میری زوجہ ہے) ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! سبحان اللہ! (ہم آپ کے معاملے میں ایسا سوچ سکتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی جگہ دوڑتا ہے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں خیال نہ ڈال دے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) برا خیال نہ ڈال دے۔