صحیح ابن حبان
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے احکام و مسائل
باب صوم التطوع - ذكر مغفرة الله جل وعلا للمسلم ذنوب سنة بصيام يوم عاشوراء وتفضله جل وعلا عليه بمغفرة ذنوب سنتين بصيام يوم عرفة باب: نفلی روزوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا عاشوراء کے روزہ سے ایک سال کے گناہ معاف کرتا ہے اور اپنے فضل سے عرفہ کے روزہ سے دو سال کے گناہ معاف کرتا ہے
حدیث نمبر: 3631
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلا يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ؟ قَالَ : " ذَاكَ صَوْمُ سَنَةٍ " ، قَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُلا يَصُومُ يَوْمَ عَرَفَةَ ؟ قَالَ : " يُكَفِّرُ السَّنَةَ ، وَمَا قَبْلَهَا " .سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو عاشورہ کے دن روزہ رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سال بھر (روزہ رکھنے کے برابر ہے) اس نے دریافت کیا: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو عرفہ کے دن روزہ رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک سال کے اور اس سے پہلے کے ایک سال کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔