صحیح ابن حبان
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے احکام و مسائل
فصل في صوم يوم الجمعة - ذكر العلة التي من أجلها نهى عنه باب: جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اس سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 3611
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ يَوْمَ جُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ ، فَقَالَ : " أَصُمْتِ أَمْسِ ؟ " ، قَالَتْ : لا ، قَالَ : " أَفَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا ؟ " قَالَتْ : لا ، قَالَ : " فَأَفْطِرِي " .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں جمعہ کے دن تشریف لائے۔ انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا کل تم نے روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کل تمہارا روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر روزہ توڑ دو۔