صحیح ابن حبان
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے احکام و مسائل
فصل في صوم الدهر - ذكر الإخبار عن نفي جواز سرد المسلم صوم الدهر باب: ممنوع روزے کے بیان - اس بات کی اطلاع کہ پورے سال مسلسل روزہ رکھنا جائز نہیں
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ " ، يُرِيدُ بِهِ : مَنْ صَامَ الأَبَدَ وَفِيهِ الأَيَّامُ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا ، مِثْلُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ مِنَ الْعِيدَيْنِ " فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ " ، يُرِيدُ بِهِ : فَلا صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ فَيُؤْجَرَ عَلَيْهِ مِنْ غَيْرِ مُفَارَقَتِهِ الإِثْمَ الَّذِي ارْتَكَبَهُ بِصَوْمِ الأَيَّامِ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا ، وَلِهَذَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا " وَعَقَدَ عَلَيْهِ تِسْعِينَ ، يُرِيدُ بِهِ : ضُيِّقَ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ بِصَوْمِهِ الأَيَّامَ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا فِي دَهْرِهِ .مطرف بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص ہمیشہ (یعنی روزانہ) نفلی روزہ رکھے اس نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اس نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔ “ اس سے مراد یہ ہے: جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اور اس میں وہ دن بھی آ جائیں جس میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ جیسے ایام تشریق اور عیدین کے دن (روایت کے یہ الفاظ) اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی چھوڑا۔ “ اس سے مراد یہ ہے: اس نے نہ تو ہمیشہ روزہ رکھا کہ اس کو اس بات پر اجر دیا جائے کیونکہ وہ اس گناہ سے نہیں بچ سکا جس کا ارتکاب اس نے ممنوعہ دنوں میں روزہ رکھنے سے کیا ہے۔ اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ ” جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اس پر جہنم اس طرح تنگ ہو جاتی ہے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے کا عدد بنا کر یہ بات بتائی۔ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے: جہنم اس کے ان دنوں میں روزہ رکھنے کی وجہ سے تنگ ہوتی ہے جن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے ۔“