صحیح ابن حبان
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے احکام و مسائل
فصل في صوم الدهر - ذكر الإباحة للمرء ترك صوم الدهر وإن كان قويا عليه باب: ممنوع روزے کے بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی پورے سال کے روزہ کو ترک کرے چاہے وہ اس پر قوی ہو
حدیث نمبر: 3580
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا قَطُّ كَامِلا إِلا رَمَضَانَ ، وَلا أَفْطَرَ شَهْرًا كَامِلا قَطُّ ، وَمَا كَانَ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَصُومُ فِي شَعْبَانَ " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ اور کسی بھی مہینے میں پورا مہینہ روزے نہیں رکھے اور نہ ہی کبھی کسی مہینے میں پورا مہینہ روزے چھوڑے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے تھے جتنے زیادہ روزے آپ شعبان میں رکھتے تھے۔