صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الأمر بالقصد في الطاعات دون أن يحمل على النفس ما لا تطيق باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - طاعات میں اعتدال کا حکم، بغیر اس کے کہ آدمی اپنی جان پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈالے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى رَجُلٍ قَائِمٍ يُصَلِّي عَلَى صَخْرَةٍ ، فَأَتَى نَاحِيَةَ مَكَّةَ ، فَمَكَثَ مَلِيًّا ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَوَجَدَ الرَّجُلَ عَلَى حَالِهِ يُصَلِّي ، فَجَمَعَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ ، قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ ، عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو ایک چٹان پر کھڑا نماز ادا کر رہا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک کنارے (کسی کام کے سلسلے میں) تشریف لائے وہاں آپ تھوڑی دیر ٹھہرے رہے۔ جب آپ واپس تشریف لائے، تو آپ نے اس شخص کو اسی حالت میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ ملائے اور یہ ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم پر میانہ روی اختیار کرنا لازم ہے تم پر میانہ روی اختیار کرنا لازم ہے۔ بے شکاللہ تعالیٰ تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے اور تم لوگ تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہو ۔“