صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الإخبار بأن على المرء قبول رخصة الله له في طاعته دون التحمل على النفس ما يشق عليها حمله باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ اللہ کی دی ہوئی رخصت کو قبول کرے اور اپنی جان پر ایسا بوجھ نہ ڈالے جو اس کے لیے دشوار ہو۔
حدیث نمبر: 355
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا فِي سَفَرٍ ، فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ ، يَرْشَحُ عَلَيْهِ الْمَاءُ ، فقَالَ : " مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ ؟ " قَالُوا : صَائِمٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ، فَعَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّتِي رَخَّصَ لَكُمْ فَاقْبَلُوهَا " .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران ایک شخص کو دیکھا جو ایک درخت کے سائے میں موجود تھا، اور اس پر پانی چھڑکا جا رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہارے ساتھی کو کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے تم لوگوں پر لازم ہے کہاللہ تعالیٰ کی وہ رخصت قبول کرو جو اس نے تمہیں عطا کی ہے۔