صحیح ابن حبان
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے احکام و مسائل
باب قبلة الصائم - ذكر الخبر الدال على أن هذا الفعل مباح لمن ملك إربه وأمن ما يكره من متعقبه باب: روزہ دار کی قبلہ کے حوالے سے بات - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ فعل اس کے لیے مباح ہے جو اپنی خواہش پر قابو رکھتا ہو اور اسے اس کے بعد کی ناپسندیدہ چیزوں سے خوف نہ ہو
حدیث نمبر: 3543
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفَنْدَوَرِيُّ ، بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " ، وَتَقُولُ : " أَيُّكُمْ أَمْلَكُ لإِرْبِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ وہ فرماتی ہیں: تم میں سے کسے اپنی خواہش پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ق ابوحاصل ہے۔