صحیح ابن حبان
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے احکام و مسائل
باب صوم الجنب - ذكر خبر ثان يصرح بإباحة هذا الفعل المزجور عنه باب: جنابت کی حالت میں روزہ رکھنے کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو اس منع کردہ فعل کی اجازت کو واضح کرتی ہے
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَبِيتُ جُنُبًا ، فَيَأْتِيهِ بِلالٌ لِصَلاةِ الْغَدَاةِ ، فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ ، فَأَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْحَدِرُ مِنْ جِلْدِهِ وَرَأْسِهِ ، ثُمَّ أَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ فِي صَلاةِ الْغَدَاةِ ، ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا " ، قَالَ مُطَرِّفٌ : فَقُلْتُ لَهُ : أَفِي رَمَضَانَ ؟ قَالَ : سَوَاءٌ عَلَيْهِ .سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات جنابت کی حالت میں رات بسر کرتے تھے پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لیے بلانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر غسل کر لیتے تھے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد اور سر پر پانی کے پھسلنے کا منظر دیکھ رہی ہوتی تھی اور پھر میں فجر کی نماز میں آپ کی تلاوت بھی سن لیتی تھی اور آپ روزے کی حالت میں ہوتے تھے۔ مطرف نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا: کیا یہ رمضان میں ہوتا تھا انہوں نے جواب دیا: اس کا حکم برابر ہے (خواہ رمضان ہو یا رمضان کے علاوہ ہو حکم یہی ہے)