صحیح ابن حبان
كتاب البر والإحسان— کتاب: نیکی و احسان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من التسديد والمقاربة في الأعمال دون الإمعان في الطاعات حتى يشار إليه بالأصابع باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ اعمال میں درستگی اور میانہ روی اختیار کرے، نہ کہ طاعات میں اس قدر غلو کرے کہ لوگوں کی انگلیوں کا اشارہ بن جائے۔
حدیث نمبر: 349
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ ، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ ، فَإِنْ كَانَ صَاحِبُهَا سَادًّا وَقَارِبًا ، فَارْجُوهُ ، وَإِنْ أُشِيرَ إِلَيْهِ بِالأَصَابِعِ ، فَلا تَعُدُّوهُ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بے شک ہر عمل کی ایک رغبت ہوتی ہے، اور ہر رغبت کی ایک فترت ہوتی ہے، جب عمل کرنے والا شخص ٹھیک رہے اور میانہ روی اختیار کرے، تو تم اس کی امید رکھو اور اگر انگلی کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کیا جائے، تو پھر تم اسے کسی گنتی میں شمار نہ کرو ۔“