صحیح ابن حبان
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے احکام و مسائل
باب السحور - ذكر الأمر بأكل السحور لمن يسمع الأذان للصبح بالليل باب: سحری کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو صبح کی اذان رات کو سنے وہ سحور کھائے
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حدَّثنا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ بِلالا يُنَادِي بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلا أَعْمَى ، لا يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ : قَدْ أَصْبَحْتَ ، قَدْ أَصْبَحْتَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمْ يَرُوِ هَذَا الْحَدِيثَ مُسْنِدًا عَنْ مَالِكٍ إِلا الْقَعْنَبِيُّ ، وَجُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءٍ ، وَقَالَ أَصْحَابُ مَالِكٍ كُلُّهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بلال رات میں ہی اذان دے دیتا ہے، تو تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم اذان نہیں دیتا ۔“ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: ابن ام مکتوم ایک نابینا شخص تھے۔ وہ اس وقت کے اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے یہ کہا: نہیں جاتا تھا کہ صبح صادق ہو گئی ہے صبح صادق ہو گئی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس روایت کو امام مالک کے حوالے سے مسند (یعنی متصل) حدیث کے طور پر صرف قعنبی اور جویریہ بن اسماء نے نقل کیا ہے امام مالک کے تمام دیگر شاگردوں نے یہ بات نقل کی ہے کہ یہ روایت زہری کے حوالے سے سالم کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے (یعنی یہ مرسل روایت ہے متصل نہیں ہے)