صحیح ابن حبان
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے احکام و مسائل
باب السحور - ذكر الأمر بأكل السحور لمن يسمع الأذان للصبح بالليل باب: سحری کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو صبح کی اذان رات کو سنے وہ سحور کھائے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانَ التَّيْمِيَّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلالٍ ، أَوْ قَالَ : نِدَاءُ بِلالٍ مِنْ سَحُورِهِ ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ ، أَوْ قَالَ : يُنَادِي بِلَيْلٍ ، لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ ، وَيُوقِظَ نَائِمَكُمْ " ، وَقَالَ : " لَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا " ، وَضَرَبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا ، " حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا " ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بلال کی اذان تم میں سے کسی ایک شخص کو ہرگز نہ روکے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) بلال کی اذان آدمی کو اس کی سحری سے نہ روکے، کیونکہ وہ اس لیے اذان دیتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اعلان کرتا ہے، تاکہ نوافل ادا کرنے والا نوافل کو چھوڑ کر سحری کرنے کے لیے) واپس چلا جائے اور وہ تمہارے سوئے ہوئے شخص کو بیدار کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صبح صادق اس طرح اور اس طرح نہیں ہوتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مارا اور اسے بلند کیا بلکہ وہ اس طرح ہوتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو کشادہ کر کے یہ فرمایا۔