صحیح ابن حبان
كتاب الصوم— کتاب: روزے کے احکام و مسائل
باب رؤية الهلال - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم " تسع وعشرون أراد به بعض الشهور لا الكل باب: چاند دیکھنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "انتیس" سے مراد بعض مہینوں کی ہے، نہ کہ سب کی
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، وَالدَّغُولِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : عَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبَاحَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَصْبَحْنَا مِنْ تِسْعَةٍ وَعِشْرِينَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ " ، ثُمَّ صَفَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ كُلِّهَا ، وَالثَّالِثُ بِتِسْعٍ مِنْهَا .سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار کیے رکھی۔ انتیسویں دن کی صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، تو حاضرین میں سے کسی نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ابھی، تو انتیس دن ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ کی تمام انگلیوں کے ذریعے تین مرتبہ اشارہ کیا اور تیسری مرتبہ میں نو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کیا (یعنی مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے)